طاغوت کے معنی

’’طاغوت سے ہر وہ معبود (جس کی عبادت کی جاتی ہو) متبوع (جس کی اتباع کی جاتی ہو) مطاع (جس کی بات مانی جاتی ہو) مراد ہے جسے بندہ اس کی اصل حیثیت سے زیادہ درجہ دے پس ہر قوم کا طاغوت وہ شخص ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر لوگ اس کے پاس فیصلے کروانے کے لئے جاتے ہوں ،یا اللہ کے سوا اس کی عبادت کرتے ہوں ،یا اللہ کی طرف سے عطاء کردہ کسی بصیرت (دلیل،رہنمائی،حکم) کے بغیر ہی اس کی اتباع کرتے ہوں،یا اس کی بات مانتے ہوں اور نہ جانتے ہوں کہ اس طرح تو اللہ کی بات ماننی چاہیے یہ سب دنیا جہاں کے طواغیت (جمع طاغوت) ہیں ان کے بارے میں اور ان کے ساتھ لوگوں کے تعلقات ومعاملات کے بارے میں غوروفکر کرنے پر آپ جان لیں گے کہ یہ لوگ اللہ کی عبادت سے ہٹ کر طاغوت کی عبادت میں لگ چکے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف تحاکم (فیصلے کے لئے جانا) کے بجائے طاغوت کی طرف تحاکم (فیصلے کے لئے جانا)کرتے ہیں اور

اللہ کی بات ماننے اور اس کے رسول کے نقش قدم پر چلنے کے بجائے طاغوت کی بات ماننے اور اس کے نقش قدم پر چلتے ہیں ۔

امام جوہری رحمہ اللہ طاغوت کی تعریف میں فرماتے ہیں :

’’طاغوت سے کاہن (غیب کی خبر دینے کا دعویٰ کرنے والا) شیطان اور گمراہی کا ہر سردار مراد ہے ،یہ ایک بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

”یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْآ اِلَی الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْآ اَنْ یَّکْفُرُوْا بِہٖ۔“

’’وہ طاغوت کے پاس فیصلہ کروانے کے لئے جانا چاہتے ہیں حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ اس کے ساتھ کفر کریں۔‘‘

اورایک سے زیادہ بھی ہوسکتے ہیں جیسا کہ فرمایا:

”اَوْلِیٰٓؤُھُمُ الطَّاغُوْتُ۔“

’’ان کے اولیاء (جمع ولی یعنی دوست یا مددگار) طاغوت ہیں ‘‘۔

اور طاغوت کی جمع طواغیت آتی ہے۔

نیز امیر المومنین ’’عمر بن خطاب‘‘رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

”ان الجبت السحر والطاغوت الشیطان“

’’جبت سے مراد جادو اور طاغوت سے مراد شیطان ہے۔‘‘

نیز ’’شیخ عبدالرحمن بن حسن‘‘ آل شیخ کی شرح’’فتح المجید شرح کتاب التوحید‘‘صفحہ 19طبع دارالندوۃ الجدیدۃ میں ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :

’’طاغوت سے مراد وہ کہّان (جمع کاہن) ہیں جن پر شیطان اترتے ہیں‘‘۔ان دونوں اقوال کو ابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے روایت کیا ہے اورفرمایا کہ طاغوت سے مراد ہر وہ شئے ہے جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے۔

میں کہتا ہوں: کہ دراصل طاغوت سے شیطان مراد ہے جیسا کہ امیرالمومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایااور گمراہی کے سارے امام اس کی شاخیں ہیں مثلاً کاہن ،جادوگر ،اللہ کے نازل کردہ قانون کے بغیر فیصلے کرنے والے ،اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے بغیر ان کے پاس فیصلے کے لئے آنے والے لوگ ،جن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہو،یا اللہ کی طرف سے کسی دلیل کے بغیر اس کی اتباع کی جاتی ہو،یا اللہ کی نافرمانی میں اس کی اطاعت کی جاتی ہو۔کیونکہ’’ طاغوت ‘‘طغیان(سرکشی)سے نکلا ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ طاغوت کی لغوی اصل طغیان ہے اور یہ اشتقاق کے بغیر ہی طغیان کا معنی دیتا ہے اور طغیان سے سرکشی (حد سے بڑھ جانا) مراد ہے لہٰذا ہر وہ معبود ،متبوع یا مطاع جسے بندہ اس کی حقیقت سے زیادہ درجہ دے وہ حقیقی طاغوت ہے۔

اور اللہ تعالیٰ نے طاغوت کے ساتھ کفر کرنے اور اس کا انکار کرنے کاحکم دیاہے اور اس کفر وانکار کو ایمان اور توحید کے صحیح ہونے کی شرط قرار دیا ہے جیسا کہ فرمایا:

فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْم بِاﷲِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰی لَا انْفِصَامَ لَھَا وَ اﷲُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔

’’پس جو طاغوت کے ساتھ کفر کرے گااور اللہ پر ایمان لائے گا وہی ہے جس نے ایسے مضبوط کڑے کو پکڑلیا جو ٹوٹتا نہیں اور اللہ سننے والا جاننے والاہے‘‘۔

نیز فرمایا:

اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْآ اِلَی الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْآ اَنْ یَّکْفُرُوْا بِہٖ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّھُمْ ضَلٰلاًم بَعِیْدًا۔

’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کا زعم (گمان وخوش فہمی ) ہے کہ وہ آپ کی جانب اور آپ سے پہلے نازل کردہ (وحی ،دین،قانون) پر ایمان رکھتے ہیں اور فیصلے کے لئے طاغوت کے پاس جانا چاہتے ہیں جبکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ اس کے ساتھ کفر کریں اور شیطان انہیں دور کی گمراہی میں لاپھینکنا چاہتا ہے‘‘۔

نیز اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے بندوں کو طاغوت سے اجتناب کرنے کا حکم دیاہے ،فرمایا:

وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اﷲَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ۔

’’اور ہم نے ہر امت میں رسول بھیجے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو‘‘۔
نیز فرمایا:

وَالَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْھَا وَ اَنَابُوْآ اِلَی اﷲِ لَھُمُ الْبُشْرٰی فَبَشِّرْ عِبَادِ،الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ ھَدٰ ھُمُ اﷲُ وَاُولٰٓئِکَ ھُمْ اُوْلُوا الْاَلْبَابِ۔

’’اور جو لوگ طاغوت کی عبادت سے بچتے ہیں اور اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں ان کے لئے خوشخبری ہے توآپ میرے بندوں کو خوشخبری دے دیجئے وہ بندے جو بات کو توجہ سے سنتے ہیں پھر اس کے اچھے پہلو پر چلتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی اور یہی لوگ عقل والے ہیں ‘‘۔

والحمد للّٰہ اوّلًا وآخراً

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s