کیا جمہوریت کفر ہے ؟

جمہوریت نیا کفری دین ہے اور قانون سازی جمہوری رب اور ان کے پیروکاران کے پجاری ہیں سب سے پہلے تویہ سمجھ لیں کہ لفظ ڈیموکریٹ )ہمارے معاشر ے میں ڈیموکریسی عمل کے لئے جمہوریت کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے جو کہ ڈیموکریسی کا اصطلاحی شرعی میں غلط ترجمہ ہے اور اصطلاح لغت کے اعتبار سے ڈیموکریسی کا اردو ترجمہ عوامیت زیادہ صحیح ہوگا نیز اگر اس کا صحیح ترجمہ جمہوریت بھی فرض کرلیں تب بھی جمہور مطلق حجت نہیں (یونانی ہے نہ کہ عربی اور یہ دولفظوں ڈیمو یعنی عوام اور کریٹ یعنی حکومت یا قانون یا قانون سازی سے مل کر بناہے یعنی لفظ ڈیموکریٹ کا مطلب ہوا کہ عوامی حکومت یا عوامی قانون سازی ۔اور اہل جمہوریت کے ہاں جمہوریت کے یہی بڑی خاصیات ہیں اور اسی لئے وہ ہر وقت اس کی مداح سرائی کرتے ہیں

جبکہ اے میرے موحد بھائی اس وقت کفر وشرک اور باطل کی یہی سب سے بڑی خصوصیات ہیں جو دین اسلام اورملت توحید سے مکمل طور پر متضاد اور معارض ہیں کیونکہ آپ جان چکے ہیں کہ اصل الاصول اور اسلام کا سب سے مضبوط کڑا جس کی خاطر بنی نوع آدم کو پیدا کیا گیا اور کتابوں اور رسولوں کا سلسلہ شروع کیا گیا وہ اللہ تعالیٰ کی توحید عبادت اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے اجتناب ہے جبکہ قانون سازی میں کسی کی اتباع کرنا عبادت ہے جو کہ اکیلے اللہ کا حق ہے اور یہ حق غیر اللہ کو دینے والا مشرک ہے۔

ڈیموکریسی میں یہ خاصیت مکمل طور پر ہوکہ فیصلہ اکثریت یا عوامی اکثریت کے مطابق ہو جیسا کہ بے دین یا دیندار جمہوریت پسندوں کی اکثریت کو جمہوریت کہاجاتا ہے یا پھر عصر حاضر کے طریق پر یہ خاصیت ہو کہ فیصلہ حکام کے ایک مخصوص طبقے یا ان کی مقرب پارٹی جس سے ان کے خاندانی مراسم ہوں یا بڑے بڑے تاجروں زمینداروں اور جاگیرداروں اور اثر ورسوخ رکھنے والوں کا ہو کہ زیادہ تر اموال اور ذرائع ابلاغ ان کے قبضے میں ہوتے ہیں اور ان کے ذریعے وہ جسے چاہتے ہیں پارلیمنٹ )جمہوریت کے قلعے (میں پہنچادیتے ہیں جیسا کہ ان کے آقا اور رب )بادشاہ یا صدر(جب چاہیں اسمبلی تحلیل کردیں یا اسے مضبوط کردیں ۔ہر دوصورتوں میں ڈیموکریسی اللہ کے ساتھ کفر وشرک اور دین توحید وانبیاءکی صریح مخالفت ہے اس کے چند اسباب ہیں درج ذیل ہیں :

یہ یا تواکثریت کی قانون سازی ہے یا طاغوت کی نہ کہ اللہ کی جبکہ اللہ نے اپنے نبی کو اپنے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیا اور امت کی خواہش یا امت کی اکثریت یا کسی ایک پارٹی کی اتباع سے روکا اور آپ کو خبردار کیا کہ اللہ کے نازل کردہ کسی قانون کے متعلق وہ آپ کو فتنے میں نہ ڈال دیں ۔لہٰذا فرمایا:

وَ اَنِ احْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اﷲُ وَ لاَ تَتَّبِعْ اَہْوَآءَ ہُمْ وَاحْذَرْہُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْکَ عَنْم بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اﷲُ اِلَیْکَ۔
(مائدہ:49)

اور یہ کہ آپ ان کے مابین اللہ کے ناز ل کردہ کے مطابق فیصلہ کریں اوران کی خواہشات پر نہ چلیں اور ان سے بچ کر رہیں کہ وہ آپ کو اللہ کے آپ کی طرف نازل کردہ کے بعض کے متعلق فتنے میں ڈال دیں ۔

یہ توحید واسلام کے متعلق ہے جبکہ ڈیموکریسی اور دین شرک کے متعلق جمہوری کہتاہے کہ:اور یہ کہ توان کے مابین پارٹی کی رضاکے مطابق فیصلہ کر اور ان کی خواہشات پر چل اور بچ کر رہ کہ تو ان کے ارادوں اور خواہشوں اور قانون کے متعلق فتنے میں ڈال دیا جائے ۔

جمہوری تو ایسی ہی باتیں کرتے ہیں اور جمہوریت بھی ایسے فیصلے کرتی ہے جبکہ یہ کفر بواح اور شرک صریح ہے اگرچہ وہ اسے جائز سمجھیں اور حقیقت اب بھی اس سے زیادہ بھیانک ہے وہ یہ کہ کہنے والا کہتا ہے کہ ان کے مابین طاغوت اور ا س کی جماعت کی خواہش کے مطابق فیصلہ کرتا جااور کوئی قانون اس کی تصدیق واجازت کے بغیر نہ بنایاجائے۔یقینا یہ بڑی واضح گمراہی ہے اور معبود حقیقی کے ساتھ شرک ہے ۔

یہ یا تو اکثریت کا فیصلہ ہوتا ہے یا طاغوت کا اوردستور کے مطابق نہ کہ اللہ کے قانون کے مطابق جیسا کہ ان کی دستور کی کتابوں میں لکھا ہے جنہیں وہ قرآن سے مقدس خیال کرتے ہیں اور ا س کے فیصلے کو قرآنی فیصلوں پر مقدم اورنگراں قرار دیتے ہیں (کویتی دستور کے آرٹیکل 6میں لکھا ہے :عوام تمام قوانین کاسرچشمہ ہے ۔اور آرٹیکل 51میں ہے کہ :قانون ساز پارلیمنٹ جس کا سربراہ صدر اور قومی اسمبلی ہوتی ہے وہ دستور کے مطابق ہے

۔اور اردنی دستور کے آرٹیکل 24میں لکھاہے کہ عوام قوانین کا سرچشمہ ہے ۔امت اپنے فیصلوں کا اس دستور کے مطابق پورا حق رکھتی ہے)تودین جمہوریت میں عملی طور پر اکثریت کے فیصلے کوبھی اس وقت قبول کیا جاتا ہے جب وہ دستور اور قانون کی دفعات کے مطابق ہو کیونکہ وہ بنیادی قانون ہے اور اس کی کتاب ان کے قرآن سے بھی مقدس ہے ایسے ہی دین جمہوریت میں قرآنی آیات واحادیث نبویہ کا اعتبار بھی نہیں کیا جاتا نہ ہی ان کے مطابق قانون بنایا جاتا ہے الّا یہ کہ وہ آیات واحادیث ان کی دستور کی مقدس کتاب کے موافق ہوں۔اگر آپ کو یقین نہیں توجاکر کسی قانون دان سے پوچھ لیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اﷲِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاﷲِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلاً۔
(نساء:59)

پس اگر تم کسی شئے میں اختلاف کرو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹادو اگر تم اللہ اور روزآخرت پر ایمان رکھتے ہو یہی بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی اچھاہے۔

جبکہ دین جمہوریت فرماتا ہے کہ اگر تم کسی بات میں اختلاف کرو تو اسے عوام اور قومی اسمبلی اور اس کے سربراہ کی طرف لوٹادو یہ دستور وضعی اور قانون ارضی کے موافق ہے۔(افسو س تم پر اور اللہ کے سوا تمہارے معبودوں پر کیا تم عقل نہیں کرتے )(ابرہیم نے یہ بات اپنی قوم اور ان کے معبودوں کے پول کھولنے کے بعد کہی تھی)اس بناء اگر اکثریت دین جمہوریت یا اس کی شرکیہ قانون ساز اسمبلیوں کے ذریعے اللہ کی شریعت (قانون )کی حکمرانی چاہے تو اس کے لئے یہ ممکن نہیں اگرچہ طاغوت بھی اس کی اجازت دے دے الّا یہ کہ ان کا دستور اور اس کی دفعات وشقیں اس کی اجازت دیتی ہوں کیونکہ یہی جمہوریت کی مقدس کتاب ہے یا اسے جمہوریت کی ان کی خواہشات وشہوات کے مطابق تحریف شدہ توراۃ وانجیل کہہ لیں۔

جمہوریت لادینیت یا سیکولرازم کی ناجائز اورغیر قانونی باندی ہے کیونکہ سیکولرازم ایسا کفری مذہب ہے جو زندگی اور ریاست وحکومت سے دین کو نکا ل باہر کرتا ہے اور جمہوریت عوام یا طاغوت کے فیصلے کو کہتے ہیں اوریہ کسی بھی حال میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ اللہ کے قانون محکم کا بالکل اعتبار نہیں کرتی الّا یہ کہ اللہ کا وہ قانون پہلے دستور کے مطابق ہوجائے یا پھر عوامی خواہشات کے اور ان سب سے پہلے وہ طاغوت یا سربراہ طبقے کی ترجیحات واغراض کے عین مطابق ہوجائے یہی وجہ ہے کہ اگر ساری عوام طاغوت یا ارباب جمہوریت سے کہے کہ ہم اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق حکومت یا فیصلہ چاہتے ہیں

اورہم یہ نہیں چاہتے کہ عوام یا عوامی نمائندوں یا عوامی حکمرانوں کے پاس قانون سازی کا اختیار ہو او رہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ اللہ کے حکم کو مرتد ،زانی ،چور اور شراب خور پر جاری کیاجائے اور عورت کے لئے عفت وحجاب کی پابندی لگائی جائے اور ہر طرح کی بے حیائیوں پر مکمل پابندی عائد ہو تو ان کا جواب فوری طور پر یہی ہوگا کہ یہ دین جمہوریت اور دین حریت کے منافی ہے کیونکہ یہ جمہوری حریت ہی توہے اور اللہ کے دین اور قانون اور اس کی حدود کی تمام حد بندیوں سے مکمل آزاد کردیتی ہے جبکہ زمینی دستور کا قانون اور وضعی قانون کی حدود ان کی گندی جمہوریت میںمکمل محفوظ ومامون اور معمول بھی ہیں بلکہ جو ان کی خلاف ورزی یا مخالفت کرے اس کے لئے سزا ضروری ہے ۔

لہٰذا اے میرے موحد بھائیوں جمہوریت اللہ کے دین کے مدمقابل ایک مستقل دین ہے جس میں طاغوت کی حکمرانی ہے نہ کہ اللہ کی جو کہ بودے معبودان متفرقہ کی شریعت ہے نہ اللہ واحد قہار کی اور مخلوق میں سے جو بھی اسے اختیار کرے یا اس کی موافقت کرے تودرحقیقت وہ دستور کی دفعات کے مطابق اپنے لئے اللہ واحد قہار کے قانون کے مدمقابل قانون ساز ی کا حق قبول کررہا ہے اب وہ اسے قبول کرنے کے بعد قانون سازی میں شریک ہو یا نہ ہو اور ان شرکیہ انتخابات میں جیت یا ہار جائے اس کا دین جمہوریت کے مطابق ان میں حصہ لینا یا حصہ لینے والوں کی موافقت کرنا اور اپنے لئے قانون سازی کو قبول کرنا اور اپنے بنائے ہوئے قانون کو اللہ کی کتاب وقانون پر مقدم کئے جانے کو قبول کرلینا ہی عین کفر ہے

واضح گمراہی ہے بلکہ معبود حقیقی سے ٹکر لے کر اس کے ساتھ شرک کرنا ہے لہٰذا عوام کا اپنے لئے عوامی نمائندے مقرر کرنا ایسا ہی جیسے ہر قبیلے او رجماعت نے ان میں سے اپنا ایک رب مقرر کرلیاتاکہ وہ ان کی خواہشات وآراء کے مطابق ان کے لئے قوانین بنائے لیکن جیسا کہ دستور کی دفعات اور شقوں اورحدود وغیرہ کے ذریعے یہ بات طے شدہ ہے کہ ان میں سے بعض تواپنے قانون ساز معبود کو کمیونسٹ آئیڈیالوجی فکر کے تحت اختیارات (ووٹ)دیتے ہیں پھر یا تووہ موافق پارٹی کا رب بن جاتا ہے یا دوسروں کے لئے مخالف پارٹی کا اور بعض اپنی قبائلی عصبیت میں اسے یہ اختیاردیتے ہیں تووہ فلاں علاقائی پارٹی کا معبود بن جاتا ہے یا دوسروں کے لئے مخالف پارٹی کا رب ومعبود اورکچھ لوگ اسے اپنے گمان میں سلفی معبود ہونے کی بناء پر ووٹ دیتے ہیں جبکہ دوسرے اسے اخوانیوں کا رب قرار دیتے ہیں )جیسا کہ کویت اور اکثر اسلامی ملکوں میں ہے﴾یا کچھ داڑھی والا رب یا کچھ دیگر داڑھی منڈا رب قرار دیتے ہیں ۔

اَمْ لَہُمْ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوْا لَہُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْ م بِہِ اﷲُ وَ لَوْ لاَ کَلِمَۃُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَہُمْ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔
(شوریٰ:21)

کیا ان کے شرکاءہیں جنہوں نے ان کے لئے دین سے وہ کچھ قانون قرار دیا جس کی اللہ نے اجازت نہ دی اور اگر کلمہ فصل نہ ہوتا تو ان کے مابین فیصلہ کردیاجاتا اور بے شک ظالموں کے دردناک عذاب ہے۔

تویہ نمائندے درحقیقت اپنے اپنے بت کدوں (پارلیمنٹ)میں معبود جھوٹے معبود ہیں جو کہ دین جمہوریت اور دستور کے قانون کے مطابق قانون سازی کرتے ہیں اور اس سے بھی پہلے وہ اپنے رب اور معبود یعنی بادشاہ یا صدر یا سربراہ کا حکم مانتے ہیں جو ان کے قوانین کا فیصلہ کرتا ہے ان کی تصدیق یا تردید کرتا ہے ۔

میرے موحدین بھائیوں یہ دین جمہوریت نہ کہ دین الٰہی اور دین مشرکین نہ کہ دین انبیاء ومرسلین اور مختلف ارباب ومعبودان کا دین نہ کہ اللہ واحد وقہار کا دین ۔

ءَ اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اﷲُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ، مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ اِلَّآ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْہَآ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُکُمْ مَّآ اَنْزَلَ اﷲُ بِہَا مِنْ سُلْطٰنٍ۔
(یوسف:40-39)

کیا بہت سے مختلف رب بہتر ہیں یا اکیلا اللہ قہار نہیں تم عبادت کرتے اللہ کے سوا مگر ناموں کی جو تم نے اورتمہارے باپ دادا نے رکھے اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔

ءَ اِٰلہٌ مَّعَ اﷲِ تَعٰلَی اﷲُ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ۔
(نمل:63)

کیا اللہ کے ساتھ کوئی اوربھی معبود ہے ؟اللہ ان کے شریکوں سے بہت بلند ہے

سوآپ اے موحد بھائی اللہ کا دین اس کاپاک قانون اس کا روشن چراغ اور اس کی سیدھی راہ اختیارکرلیں یا پھر دین جمہوریت اور دین شرک وکفر اور ٹیڑھی مسدود راہ یا تواللہ اکیلے قہار کا حکم مان لیں یا طاغوت کا ؟

قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الغَیِّ فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْم بِاﷲِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی لاَ انْفِصَامَ لَہَا وَ اﷲُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔
(بقرہ:265)

تحقیق ہدایت گمراہی سے واضح ہے توجو طاغوت کے ساتھ کفر کرے اور اللہ پر ایمان رکھے اسی نے مضبوط کڑے کو پکڑرکھا ہے جو ٹوٹتانہیں ۔

وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکُمْ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَکْفُرْ اِنَّآ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا۔
(کہف:29)

اورکہہ دیجئے حق تمہارے رب کی طرف سے ہی ہے اب جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے کفر کردے یقینا ہم نے ظالموں کے لئے آگ تیارکررکھی ہے۔

اَفَغَیْرَ دِیْنِ اﷲِ یَبْغُوْنَ وَلَہٗ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ کَرْہًا وَّ اِلَیْہِ یُرْجَعُوْن، قُلْ اٰمَنَّا بِاﷲِ وَ مَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ مَآ اُنْزِلَ عَلٰٓی اِبْرَاہِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی وَ عِیْسٰی وَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّہِمْ لاَ نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْہُمْ وَ نَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ، وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلاَمِ دِیْنًا فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْہُ وَ ہُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۔
(آل عمران:85-83)

کیا پھر اللہ کے دین کے سوا وہ متلاشی ہیں حالانکہ آسمانوں اور زمین والے طوعاً وکرھاً اسی کے فرمانبردار ہیں اور اسی کی طرف لوٹ جائیں گے کہہ دیجئے ہم اللہ پر اور جو ہم پر نازل کیاگیا اور جو ابراہیم واسماعیل واسحاق و یعقوب اور ان کی اولادوں پر اتارا گیا اور جو موسیٰ وعیسیٰ اور انبیاء اپنے رب کی جانب سے دیئے گئے اس پر ایمان لائے ہم ان میں سے کسی میں فرق نہیں کرتے اور ہم اس کے فرمانبردار ہیں اور جو اسلام کے سوا دین چاہے تواسے اس سے کبھی قبول نہ کیاجائے گا اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں ہوگا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s